اشکوں کے چراغ — Page 238
238 میرا ہو جائے کچھ بعید نہیں مجھ پہ مائل وہ گل عذار تو ہے کیا عجب ہے معاف بھی کر دے دل ہی دل میں وہ شرمسار تو ہے غم قابو اگر نہیں مضطر ! اس میں لذت تو ہے، خمار تو ہے
by Other Authors
238 میرا ہو جائے کچھ بعید نہیں مجھ پہ مائل وہ گل عذار تو ہے کیا عجب ہے معاف بھی کر دے دل ہی دل میں وہ شرمسار تو ہے غم قابو اگر نہیں مضطر ! اس میں لذت تو ہے، خمار تو ہے