اشکوں کے چراغ — Page 240
240 عقل تنہا، دل ناداں تنہا جس کو دیکھو، ہے پریشاں تنہا اشک در اشک پکارا ان کو رات کی سیر چراغاں تنہا پھر کسی یاد کے چوراہے پر رُک گئی عمر گریزاں تنہا کوئی ساتھی ہے نہ کوئی محرم کیسے گزرے گی مری جاں! تنہا نہاں خانہ دل میں مستور میں بھری بزم میں عریاں تنہا اتنے شائستہ منزل ہو کر پھر بھی رہتے ہیں غزالاں تنہا اس کا مفہوم بدل جاتا ہے زندگی یوں تو ہے آساں تنہا راستے محو تلاش منزل منزلیں سریگر یہاں تنہا وہ بھی مضطر ہیں ہماری خاطر ہم ہی ان پر نہیں قرباں تنہا ہم تو کافر ہیں بجا ہے صاحب ہو تو اک تم ہو مسلماں تنہا شیخ بے ذوق ہے، واعظ غافل ایک مضطر ہے غزل خواں تنہا