اشکوں کے چراغ — Page 230
230 ہم ہوئے یا کوئی رقیب ہوا تجھ سے ملنا کسے نصیب ہوا ہم کو خلعت ملی فقیری کی کوئی ہم سا نہ خوش نصیب ہوا عشق ہے یا خلل دماغ کا ہے کچھ تو مجھ کو مرے طبیب ! ہوا فاصلے اور بڑھ گئے مضطر ! جسم جب جسم کے قریب ہوا
by Other Authors
230 ہم ہوئے یا کوئی رقیب ہوا تجھ سے ملنا کسے نصیب ہوا ہم کو خلعت ملی فقیری کی کوئی ہم سا نہ خوش نصیب ہوا عشق ہے یا خلل دماغ کا ہے کچھ تو مجھ کو مرے طبیب ! ہوا فاصلے اور بڑھ گئے مضطر ! جسم جب جسم کے قریب ہوا