اشکوں کے چراغ — Page 231
231 کس لیے تو سامنے آیا نہ تھا تجھ کو چاہا تھا، فقط سوچا نہ تھا تیری خاطر میری رسوائی ہوئی تو نے میرا حال تک پوچھا نہ تھا مجھ کو سولی دی گئی بازار میں تُو نے مجھ پر پھول تک پھینکا نہ تھا دار پر خواہش کی دیواریں نہ تھیں دور تک آواز کا پہرہ نہ تھا تیری منزل کے سوا منزل نہ تھی تیرے رستے کے سوا رستہ نہ تھا میرا سایہ بھی تھا میرے ساتھ ساتھ میں اکیلا تھا مگر تنہا نہ تھا منزلیں لیٹی ہوئی تھیں راہ میں راہرو کوئی ادھر آیا نہ تھا