اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 210 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 210

210 مسکراہٹ کو دیکھ کر میری اب تو گھبرا گیا ہے قاتل بھی جن کو دعوی سے دوستی کا آج کل مرے قتل میں تھے شامل بھی کبھی اس پر بھی غور کر مضطر! تیرا دل ہے تو اس کا ہے دل بھی