اشکوں کے چراغ — Page 209
209 مل ہی جائے گی دل کی منزل بھی کچھ تو اپنی جگہ سے تو ہل بھی ہم فقیروں سے بے نواؤں سے مسکرا کر کبھی گلے مل بھی اس سے سارا جہان ہے ناراض جو ہے سارے جہان کا دل بھی ریزه در ریزه لمحه در لمحہ ٹوٹ جائے گی وقت کی سل بھی عہد ہے اس کے دریے آزار عہد کا ہے جو پیر کامل بھی کوئی طوفان بھیج دے یا رب! اب تو پاس آ گیا ہے ساحل بھی کبھی ملتا کبھی نہیں ملتا سہل بھی اس کا ملنا مشکل بھی