اشکوں کے چراغ — Page 211
211 کسی کے روکنے سے کم رکے گا یہ طوفاں خود بخود یک دم رکے گا طلوع صبح تک ہے شورِ محشر گھڑی بھر میں یہ زیر و بم رکے گا ہوس کی آگ ہے جلتی رہے گی دھواں اُٹھتا رہے گا، دم رکے گا تم آ جاؤ تو کچھ تسکین ہو گی دردِ دل ذرا باہم رکے گا ہماری یاد تڑپایا کرے گی زمانہ روئے گا جب دم رُکے گا بتا اے کاروبار غم کے خالق! کبھی یہ کاروبار غم رکے گا؟ کہیں گل بھی نہ ہنسنا بند کر دیں گریۂ شبنم رکے گا سنا ہے