اشکوں کے چراغ — Page 170
170 شور ہونے لگا پتنگوں میں روشنی بٹ گئی ہے رنگوں میں کیسے کیسے جوان مارے گئے حرف وصوت وصدا کی جنگوں میں اس میں کچھ آنکھ کا قصور نہیں رنگ ہی مل گئے ہیں رنگوں میں رات جب روشنی قریب آئی فاصلے بڑھ گئے پتنگوں میں ان کو ایفائے عہد کا ہے خیال ہے شرافت ابھی لفنگوں میں آنکھ لڑتی، زباں جھگڑتی ہے زندگی گھر گئی تلنگوں میں کیا ملا تھا معاوضہ اے دل! تو بھی زخمی ہوا تھا جنگوں میں آندھیاں بھی نہ ان کو کھول سکیں ایسی گرہیں پڑیں پتنگوں میں کاش اپنا شمار ہو جائے تیری درگاہ کے ملنگوں میں ان کو ڈر ہے کہ اب کے مضطر بھی گھر نہ جائے کہیں اُمنگوں میں