اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 171 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 171

171 تھک کے واپس آ گئی چشم سوال ہر طرف حائل ہے دیوار خیال وہ نگاہوں کا مقام اتصال ہنس کے ملتے ہیں جہاں عجز و کمال عالم تاب کے دربار میں اب بھی ذرے بولتے ہیں خال خال جسم و جاں دونوں معطر ہو گئے کتنا خوشبودار ہے تیرا خیال اب نظر آئیں گے دل کے فاصلے چاند نکلا ہے سر غار خیال باغ میں پت جھڑ کا ننگا ناچ ہے گا رہی ہے ماہیا باد شمال دیکھنے والے بھی مضطر ! آئیں گے حسن کو جب ہوگا احساس جمال