اشکوں کے چراغ — Page 169
169 چھوڑ کر عقل کی باتیں ساری عشق سے مانگ زکوتیں ساری اس کی توصیف مکمل نہ ہوئی ہو گئیں ختم لغاتیں ساری توڑ کر پھینک دے اس کے در پر قلم اور دوائیں ساری اس کی نظروں سے چھپا کر رکھنا صوم اپنے یہ صلاتیں ساری اس سے ہی ملتے ہیں سارے انعام سارے اکرام، نجاتیں ساری دیکھنا ان کو چھپا کر رکھنا کام آئیں گی یہ راتیں ساری ہے فقط عشق نجیب الطرفین اور کم ذات ہیں ذاتیں ساری تن کی مٹی ہو کہ من کا سونا ایک ہی دھات ہیں دھاتیں ساری سامنا ان سے ہوا جب مضطر! خود گرا دو گے قناتیں ساری