اشکوں کے چراغ — Page 94
94 سفر کی صعوبت سے گھبرا کے آخر ہو گئے ہمسفر احتیاطاً جدا تو سُن لے جو خلق خدا کہہ رہی ہے مگر اس کو کر یا نہ کر احتیاطاً کریں نہ کریں وہ تمھیں قتل مضطر ! جھکا دینا تم اپنا سر احتیاطاً
by Other Authors
94 سفر کی صعوبت سے گھبرا کے آخر ہو گئے ہمسفر احتیاطاً جدا تو سُن لے جو خلق خدا کہہ رہی ہے مگر اس کو کر یا نہ کر احتیاطاً کریں نہ کریں وہ تمھیں قتل مضطر ! جھکا دینا تم اپنا سر احتیاطاً