اشکوں کے چراغ — Page 93
color 83 93 جلا کر مرا پہلے گھر احتیاطاً اب آیا ہے وہ بام پر احتیاطاً نہ شیخی بگھار اپنی کرسی کی اتنی مکافات سے کچھ تو ڈر احتیاطاً جو کل تک تھے بد نام چھوٹوں بڑوں میں وہ اب بن گئے معتبر احتیاطاً پتا تھا اگرچہ اسے اپنے گھر کا وہ پھرتا رہا دربدر احتیاطاً کھلے شہر میں ہم سے ملنے کی خاطر ت لوگ آئے ، مگر احتیاطاً اگر چہ ضرورت تو اس کی نہیں تھی وہ ہنستا رہا عمر بھر احتیاطاً نکل جائے بیچ کر اگر میرا قاتل مجھے بھیج دینا خبر احتیاطاً