اشکوں کے چراغ — Page xi
Λ اوّل آئینے سے الفت ہوگئی لمحے بیچ دیے، صدیاں نیلام کرو 423 اپنے اندازے میں اوروں کا نہ اندازہ ملا 425 ہر کوئی شہر بدر لگتا ہے آئی ہے اس کی یادیوں سونے گھروں کے بیچ 427 عشق کا جرم مرے نام لگایا جائے 455 456 457 آنکھ کے آسیب جب تک جانہ لیں 429 خواب چہرے پر سجائے ، دل میں تعبیریں لیے 458 459 460 461 463 464 465 467 469 470 471 472 473 475 477 478 479 480 سناٹوں سے کہہ دو یہ گھر میرا ہے 430 بن گئی زاد سفر بے سروسامانی بھی اشک دراشک ابتدا میں کہیں 41 کبھی یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ گلہ نہ کرے 432 اوڑھ کر آئین کا جھوٹا لبادہ اس برس سر مقتل وفا کے حوصلے بھی بس اک اشک سے دھل گئے سارے سینے 433 ہمیں ساتھ اے نامہ بر ! لیتے جانا حسن نظر سے جب بھی ہو احسن کا ملاپ 435 شیشے نہیں ٹوٹے ہیں کہ پتھر نہیں بولا وہ پل صراطِ صدا پار کر ہی جائے گا 437 درود تیرے لیے ہے، سلام تیرا ہے 440 زخم بولے تو جیسے بھر سے گئے راہ پکارے گی، چورستہ بولے گا 439 تم نے اگر نہ پھول کی حرمت بحال کی مجھ کو اپنے غم کا اندازہ نہ تھا موسم کے مراحل سے گزر جائے گا پانی 441 روشنی اکیلی تھی صبح و شام سے پہلے نہ سہی دوست، کوئی دشمن کامل اٹھے 443 سُن ! محو گفتگو ہے یہ کون آسمان سے سولی کو جو سجا سکے وہ سر تلاش کر 445 میں ترے معہد میں اگر ہوتا روح کے پتھر پگھل جانے بھی دے 446 تمہید کی اتنی بھی ضرورت تو نہیں تھی جولمحہ بھی اشکوں سے لا دا گیا یوں نہ مجبور کو مسند پہ بٹھایا جائے 447 آہوں کی بانہیں 449 اول تو اپنی آنکھ کا پانی لہوکر و ہر پھول انتخاب ہے ،خوشبولباس ہے 451 ریگ زاروں میں چاندنی ہوئی آنسو تھے تو آنکھ کا زیور ہو جاتے 453 کیا کیا نہ تو نے ہم پر احسان کر دیا ہے کیوں من و تو کی نہ تفریق مٹا دی جائے 454 اس سفر کا کبھی انجام نہ ہونے پائے