اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xii

۹ ، چاند چھپا، تارے مرجھائے ، نرگس ہے بیمار 481 حسن مجبور ہو گیا ہوگا فاصلے ان کے ہمارے درمیاں کہنے کو ہیں 484 آپ اگر بدگمان اتنے ہیں پس لمحہ جو لمحہ سورہا ہے اوڑھ کر آواز کو تقریر آدھی رہ گئی 485 بے نظر بھی ہوں، بے ادب بھی نہیں 513 514 515 487 وصف جمال یار پر ختم ہے میری شاعری 516 تری چپ نامہ بر! اچھی نہیں ہے 488 اک حسیں پر جسم اور جاں وار کر 517 شہر کے ہوں یا گاؤں کے 489 ناز ہے مجھ کو بھی ان کے پیار پر ملا کو کبھی اتنا تنومند نہ کرنا 491 حریم ہجر میں کیسا چراغ روشن ہے مرے اندرلڑائی ہو رہی ہے 493 کب سے بیٹھے ہو بے یقینے سے 518 519 520 یہ نشاں ہے جو بے نشان سا ایک 495 کیوں اشک آنکھ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں 521 ایک لکنت سی ہے زبان میں کیا! 497 محفل کا دل اداس ہے، ساقی خموش ہے 524 دل نہیں آج آشنا دل کا چھیڑ کر ہم نے سلسلہ دل کا اسے اندیشہ ہے گر کر سنبھلنے کا سوچتا ہوں تو تنہا تنہا لگتا ہوں 499 وہ جلال اور وہ جمال کہاں 525 500 غم ہائے روزگار کی نظروں نے کھالیاں 527 501 جہاں عشق نے برچھیاں ماریاں 503 صدمہ رنگ سے جنگل جاگا 528 کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ لکھا ہوا 505 پھر شب دیجور دروازہ کھلا اشک بر سے تو اس قدر بر سے 507 اوڑھ لینے کو بدن بھی ہوگا اصل کی نقل ہوں ، نشانی ہوں 508 آنکھ سے ٹیکا لہو بن کر جلا کون کہتا ہے اسے آدھا نگل 509 نعرہ زن بزم میں جب تو ہوگا یہ غزلیں مری ، یہ ترانے مرے 510 اپنے سائے سے ڈر رہی ہے رات خام ہوں ، گمنام ہوں ، مستور ہوں 511 وہ نہ تنہا مجھ سے کوسوں دور تھا کہیں گرنا، کہیں سنبھلنا تھا 512 خود سے مل کر ہوئے اداس بہت 529 530 531 532 533 534 535 537