اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 30 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 30

30 30 ہم پہ ہیں سایہ فگن اس دھوپ میں اب بھی تیرے پیار کی پرچھائیاں اب بھی تیری یاد سے آباد ہیں و جان کی پہنائیاں شہر جسم تیری سچائی کی ہیں حلقہ بگوش پرانی اور نئی سچائیاں کیسی کیسی عزتوں میں ڈھل گئیں کیسی ذلتیں ، رُسوائیاں کیسی ہم نے دیکھا ظلم بھی ، انصاف بھی ہم نے ہر حالت میں غزلیں گائیاں ہم کو جنت سے نہ دوزخ سے غرض ہم ہیں تیرے نام کی سودائیاں اب کوئی حسرت نہیں ، تیری قسم! ہم نے منہ مانگی مرادیں پائیاں