اشکوں کے چراغ — Page 29
29 29 ہم نے جب دو چار غزلیں گائیاں اور گہری ہو گئیں گہرائیاں ہجر کی شب کیسی کیسی صورتیں ہم سے تنہائی میں ملنے آئیاں رات پروانوں کو جلتا دیکھ کر شمع خود لینے لگی انگڑائیاں دل جلے اچھے پھلے خاموش تھے بات کی تو بڑھ گئیں تنہائیاں کوچه و بازار میں برسا لہو بادلوں کی رُت میں آنکھیں آئیاں افتان و خیزاں چلے تیری طرف راستے میں ٹھوکریں بھی کھائیاں دشمنوں سے دشمنی بھی چھوڑ دی دوستوں کی گالیاں بھی کھائیاں