اشکوں کے چراغ — Page 31
31 برملا کہیے کیسے مجھے برا کیسے اب تقاضا ہے مصلحت کا ہے یہی واعظ شہر کو خدا کیسے دیکھیے مت قریب سے مجھ کو ڈور سے تکیے، پارسا کہیے میرا اپنا کوئی وجود نہیں عکس مجھ کو وجود کا کیسے لفظ لڑنے کو اب بھی ہیں تیار اس سے کیا ہو گا فائدہ، کہیے وہ جو آ کر چلا گیا لمحہ اس کو صدیوں کا خوں بہا کہیے عکس بن کر اُتر رہا ہوں میں میری آہٹ کو زلزلہ کہیے قاتل شہر میرے قتل کے بعد مجھ کو اپنا کہے تو کیا کیسے بر سرِ دار بھی خموش رہا اس کو مضطر کا حوصلہ کہیے