اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 591 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 591

591 کہیں انکار ہی کی سزا تو نہیں فتنوں فتنے ابھرتے ہوئے خود وصل کی رُت میں بھی تم ہو کیوں دم بہ کیوں زباں رک گئی بات کرتے ہوئے مجھ کو تسلیم ہیں ساری گستاخیاں شرم آتی مضطر مکرتے ہوئے