اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 507 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 507

507 اشک بر سے تو اس قدر بر سے دُھل گئی ہے زمین اندر سے پرسکوں ہیں اگر چہ باہر سے ڑھے رہے ہیں مکان اندر سے ہو کے ناراض دیدۂ تر سے اشک اکیلا نکل گیا گھر سے کوئی خطرہ نہیں سمندر سے ڈر اگر ہے تو دیدہ تر سے خشک سالی سی خشک سالی آنکھ اور بوند بوند کو ترسے! ہے کوئی اپنا رہا نہ بے گانہ رات پانی گزر گیا سر سے کیا تجھے راستہ دکھائیں گے راہ میں جو پڑے ہیں پتھر سے کچھ تو خوف خدا کرو لوگو! اس قدر جھوٹ اور منبر سے! ہے خبر گرم رات مولانا قرض لینے گئے تھے کافر سے اپنے سائے سے ڈرتا پھرتا ہے محتسب احتساب کے ڈر سے آپ کا اس نے کیا بگاڑا ہے کیوں خفا ہو رہے ہو مضطر سے (۱۹۸۹ء)