اشکوں کے چراغ — Page 508
508 اصل کی نقل ہوں، نشانی ہوں اک روایت ہوں اور پرانی ہوں میرا محبوب قادیانی ہے بخدا میں بھی قادیانی ہوں نام لیوا ہوں عہد رفتہ کا اور اس عہد کا بھی بانی ہوں جس کو لکھا گیا ہے صدیوں میں میں وہ تازہ تریں کہانی ہوں در حقیقت وہی حقیقت ہے جس حقیقت کا دورِ ثانی ہوں کیسے سمجھاؤں تجھ کو اپنی بات تو زمینی ، میں آسمانی ہوں آئنہ بھی ہے تجھ سے شرمندہ شرم سے میں بھی پانی پانی ہوں میں وہی مرگِ ناگہانی ہوں موت مجھ سے سنبھل کے بات کرے عشق کی آخری نشانی ہوں کس کو حاصل دوام ہے پیارے! تو بھی فانی ہے، ہمیں بھی فانی ہوں لوٹ کر جو کبھی نہیں آتی میں وہ گزری ہوئی جوانی ہوں دشمن جاں کے حق میں بھی مضطر ! جس کو ہر لیکھرام جانتا ہے مہربانی ہی مہربانی ہوں