اشکوں کے چراغ — Page 496
496 ایسے لگتا ہے اس کے سائے میں جیسے سر پر ہو سائبان سا ایک وہی لیل و نہار ہیں اُس کے شہر ربوہ ہے قادیان سا ایک موڑ کے بعد آ رہا ہے موڑ ہر قدم پر ہے امتحان سا ایک چوکھی لڑ رہا ہے طوفاں سے جنگجو ہے کوئی چٹان سا ایک بھیجنے والے! بھیج باد مراد اور بادل بھی بادبان سا ایک تم بھی اے کاش کہہ سکو مضطر! شعر کوئی نصیر خان سا ایک