اشکوں کے چراغ — Page 497
497 ایک لکنت سی ہے زبان میں کیا! پھر کوئی آ رہا ہے دھیان میں کیا! روشنی سی ہے جسم و جان میں کیا؟ چاند اترا ہے قادیان میں کیا! ہو رہی ہے زمین زیر و زبر شور برپا ہے آسمان میں کیا دن میں بھی کچھ نظر نہیں آتا کوئی روزن نہیں مکان میں کیا؟ کتنی معصومیت سے پوچھتے ہیں اور بھی لوگ ہیں جہان میں کیا؟ کس کو آواز دے رہے ہو میاں! کوئی رہتا ہے اس مکان میں کیا“ روح کے فاصلے ہی کیا کم تھے آ گئے جسم درمیان میں کیا