اشکوں کے چراغ — Page 495
495 نشاں ہے جو بے نشان سا ایک اس میں آباد ہے جہان سا ایک اشک ہے یہ جو بے زبان سا ایک یہی اپنا ہے ترجمان سا ایک اس سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہوں دل کے اندر حوصلہ کر عطا مجھے یا رب! ہے بدگمان سا ایک میرا دشمن ہے بدزبان سا ایک صبح ہوتے ہی اُڑ نہ جائے کہیں یہ پرندہ ہے مہمان سا ایک شہر جاناں! ہو تیری عمر دراز ہے تو زمیں پر ہے آسمان سا ایک اگر تو ہمیں بھی بتلاؤ یار اُس یار مهربان سا ایک آج مظہر ہے قدرت حق کا وہ جو کل تک تھا نوجوان سا ایک زہے قسمت غلام ہوں اُس کا جو ہے وعدے کا اور زبان کا ایک