اشکوں کے چراغ — Page 490
490 دشمن مری اذانوں کے قاتل مری صداؤں کے چشم زدن میں خاک ہوئے رجواڑے راجاؤں کے صحن وطن میں اُترے ہیں غول کے غول بلاؤں کے نیت دیکھ کے موسم کی دل ڈولے دریاؤں کے بارے کچھ طوفان رکا ٹوٹے زور ہواؤں کے خوش ہیں پتھر کھا کر بھی عادی نرم غذاؤں کے پھر پردیس سے آئے ہیں جھونکے مست ہواؤں کے یہ سورج اور چاند نہیں نقش ہیں تیرے پاؤں کے میری گلیاں الفت کی میرے شہر وفاؤں کے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں ہم محتاج دعاؤں کے ساون ہے ستاری کا موسم نہیں سزاؤں کے ہم نے پیٹر لگائے ہیں سایہ دار دعاؤں کے ایک نظر اس جانب بھی خشنهار خطاؤں کے