اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 489 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 489

489 شہر کے ہوں یا گاؤں کے بیٹے ہیں سب ، ماؤں کے پاؤں ہیں یہ ماؤں کے ماؤں ٹھنڈی چھاؤں کے چوم رہے ہیں کانٹوں کو چھالے میرے پاؤں کے کوہ طور محبت کے ٹیلے صحراؤں کے روک لیے ہیں شہروں نے رستے میرے گاؤں کے تم مالک ہو شہروں کے ہم ہاری ہیں گاؤں کے فتوے کٹھ ملاؤں کے جوتے میرے پاؤں کے کے باتیں عقل کے اندھوں کی قصے نابیناؤں سب گھائل ہیں فتووں کے اور زخمی ملاؤں کے کچھ آزار اسیری کے کچھ ناسور جفاؤں کے آئیں چند یتیموں کی نالے کچھ بیواؤں کے کچھ آشوب خموشی کا کچھ بحران صداؤں کے کچھ گھپلے نادانوں کے کچھ دھو کے داناؤں کے کچھ ٹھوٹھے مسکینوں کے کچھ کشکول گداؤں کے بھتنے زرد صحافت کے لے پالک آقاؤں کے بھوت پریت جہالت کے مجبوں اور قباؤں کے