اشکوں کے چراغ — Page 488
488 تری چُپ نامہ بر! اچھی نہیں ہے ہے خبر اچھی نہیں مجھے ڈر ہے بتا پھر اور کیا اچھا ہے واعظ! محبت بھی اگر اچھی نہیں ہے عبث خوش ہو رہے ہو اس کو سن کر خبر اے بے خبر! اچھی نہیں ہے نظر آتا نہیں کیوں چاند چہرہ تری شاید نظر اچھی نہیں ہے لپٹ جا شام سے جا کر لپٹ جا اگر تیری سحر اچھی نہیں ہے قصور اس میں ہو منزل کا بھی شاید اگر یہ رہگزر اچھی نہیں ہے ہیں شب بیداریاں بے کار مضطر ! تری نیست اگر اچھی نہیں ہے