اشکوں کے چراغ — Page 487
487 اوڑھ کر آواز کو تقریر آدھی رہ گئی آئنے میں آن کر تصویر آدھی رہ گئی ہو گئے اہل وطن اپنے وطن میں بے وطن عدل اور انصاف کی تو قیر آدھی رہ گئی اب اُتر بھی آفلک سے اے مری جاں کی پناہ! ملک آدھا، وادی کشمیر آدھی رہ گئی کٹتے کٹتے کٹ گئی تنہائیوں میں زندگی گھٹتے گھٹتے زلف کی زنجیر آدھی رہ گئی اس ستمگر کی ہوئی تو قیر اتنی شہر میں شہر بھر کی عزت و توقیر آدھی رہ گئی لوگ ناموس قلم کو بیچ کر بازار میں پوچھتے ہیں کس لیے تاثیر آدھی رہ گئی لٹ گئی عصمت صدا کی ، آبرو آواز کی لفظ بونے ہو گئے ، تحریر آدھی رہ گئی عزتِ سادات ہی مضطر ! نہیں اس عشق میں عزت آواز بھی اے میر! آدھی رہ گئی