اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 393 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 393

393 سر چھپانے کا بندوبست تو ہے شاخیں ننگی سہی درخت تو ہے کیا عجب خود شناس بھی نکلے قاتل شهر خود پرست تو ہے مسکرا کر بٹھا لے پاس اپنے تیرے پہلو میں اک نشست تو ہے راہ چلتوں پہ گر نہ جائے کہیں دل کی دیوار لخت لخت تو ہے دوستوں سے یہ دوستوں کا گریز عبد و آئین کی شکست تو ہے تم سناتے ہو بار بار جسے میری اپنی ہی سرگزشت تو ہے جس کو کہتے ہو عالم بالا طائرِ جاں کی ایک جست تو ہے