اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 392 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 392

392 ایک دل ہی نہ راہ پر آیا یوں تو تسخیر کائنات بھی کی ہم نے سولی کو بڑھ کے چوم لیا دن دہاڑے یہ واردات بھی کی ނ کیوں خفا ہو رہے ہو مضطر کچھ کہا اس نے؟ کوئی بات بھی کی؟ ( ۲۰ / جولائی ، ۱۹۹۱ء)