اشکوں کے چراغ — Page 355
355 زندان ہجر میں کوئی روزن نہ باب تھا وہ جس تھا کہ سانس بھی لینا عذاب تھا ہم جی رہے تھے تیری ہی رحمت کی گود میں سایه یمکن ترے ہی کرم کا سحاب تھا تیری عنایتوں کی نہ تھی کوئی انتہا میری خطاؤں کا بھی نہ کوئی حساب تھا تیرے ہی نور سے تھیں منوّر صداقتیں تو ہی تھا ماہتاب، تو ہی آفتاب تھا تھی خوشبوؤں میں بھی تری خوشبو ہی دلنواز پھولوں میں پھول تیرے ہی رُخ کا گلاب تھا نیکی ترے بغیر گناہ عظیم تھی لمحہ جو تیری یاد میں گزرا ثواب تھا تو ہی تھا وہ سوال جو اکثر کیا گیا تو ہی تھا وہ جواب کہ جو لاجواب تھا