اشکوں کے چراغ — Page 356
356 اے حسنِ تام ! علم بھی تو تھا، عمل بھی تو لوح و قلم بھی تو ہی تھا، تو ہی کتاب تھا صبح ازل مشیت یزداں تھی دیدنی جس صبح بزم گن میں ترا انتخاب تھا اول بھی تو ، اخیر بھی تو ، تو ہی درمیاں تو تھا پس نقاب، تو پیش نقاب تھا کام آ گئی غریب کے، مدحت حضور کی مضطر کا آج کہتے ہیں یوم الحساب تھا (۱۹۶۷ء)