اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xl of 679

اشکوں کے چراغ — Page xl

۳۷ نظمیں پڑھ کر بے حد محظوظ ہو ا ہوں۔ماشاء اللہ آپ آپ ہی ہیں۔ہزاروں لاکھوں نے یہ مضمون باندھے ہوں گے مگر آپ کی تو ادا ہی الگ ہے۔ماشاء اللہ۔چشم بد دور۔یہ شعر تو بہت ہی پسند آئے ہیں۔دار پر شب گزر گئی ہو گی لوٹ کر کون گھر گیا ہو گا جانتا ہوں دعا کے موسم میں وہ اکیلا کدھر گیا ہو گا اس کی آواز کی صداقت پر لفظ لذت سے بھر گیا ہو گا آؤ دریا کی سیر کر آئیں اب تو پانی اُتر گیا ہو گا بہت ہی خوب اور تر و تازہ کلام ہے۔واہ واہ ! کیا بات ہے آپ کی۔اللہ آپ کے عرفان کو اور بھی بڑھائے۔اس وقت جماعت کے شعراء میں خدا تعالیٰ نے آپ دونوں کو جو امتیازی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں وہ دوسرے شعراء خواہ مانیں یا نہ مانیں مگر میں چونکہ شعراء میں سے نہیں ہوں، میں مانتا ہوں۔اپنی اپنی طرز میں آپ دونوں بعض دفعہ ایسی شان سے ابھرتے ہیں کہ لکھنے والوں کے قلم ٹوٹ جاتے ہیں۔اللَّهُمَّ زِدْوَبَارِكُ۔✰✰✰ یہاں پر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مکرم عبید اللہ علیم مرحوم کا ذکر فرمایا۔