اشکوں کے چراغ — Page xxxix
۳۶ تھے اسی ادا سے اس غزل میں اپنے آپ کو ڈانٹا ہے۔قصور آپ کا نہیں ہمارا ہی تھا کیونکہ اس سفر میں مجھے یاد ہے۔جھگڑے تھے پھول پھول ، لڑے تھی کلی کلی لندن/1990/ہش 26۔6۔1369 ہمیشہ کی طرح آپ کا کلام آپ کی اس ذات کا آئینہ دار ہوتا ہے جو سرسری نظر سے دکھائی نہیں دیتی مگر قریب رہ کر گہری نظر کے مطالعہ سے متعارف ہوتی ہے۔اگر اس کلام کا وسیلہ نہ ہوتا تو آپ مجہول حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتے۔سوائے ان چند لوگوں کے جن میں میں بھی شامل ہوں آپ کے حسن مستور سے کوئی واقف نہ ہوتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں خالد میں شائع ہونے والی آپ کی نظم بعنوان ”ہر گلی کوچے میں اجلاس شبیہ ہوگا بہت ہی خوبصورت اور خوب سیرت ہے۔یہ دل پر گہرا اثر کرنے والی نظم ہے۔اسے پڑھ کر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی خاص طور پر دعا کی تحریک ہوتی ہے اور آپ کے لیے بھی۔اس کا ہر شعر اپنے رنگ میں ایک دلربائی رکھتا ہے لیکن مقطع ایک نئے زاویہ نگاہ سے ایک ایسی حقیقت کو دکھانے کا مطلع بن گیا ہے جو اس خوبصورت زاویے سے پہلے کسی نے شاید لوگوں کو نہ دکھائی ہو کشتی نوح میں بیٹھے تو ہو لیکن مضطر شرط یہ ہے یہیں مرنا یہیں جینا ہوگا وفا اور ثبات قدم کا مضمون خوب باندھا ہے۔ماشاء اللہ۔چشم بد دور۔خدا حافظ! لندن /30۔3۔95 ☆☆☆ الفضل انٹرنیشنل کے 17 فروری اور 10 / مارچ کے شماروں میں آپ کی