اشکوں کے چراغ — Page xli
۳۸ فرانس/23۔5۔89 آپ کی غزل ماہنامہ مصباح میں پڑھی ہے۔بہت اچھی غزل ہے۔دل پر گہرا اثر کیا ہے ، مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ہاں اس میں مقطع سے پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں یعنی سے اے رب ذوالجلال والمیزان بول بھی، کی بجائے ”اے رب ذوالجلال والاکرام ہوتا تو بہتر ہوتا۔لیکن چونکہ آپ نے انصاف کا مضمون باندھا ہے ،اس لیے اندازہ ہو گیا کہ میزان پر کیوں آپ کا دل اٹکا اور کیوں قرآن کریم کے پر شوکت کلام اور عارفانہ محاورہ سے اک ذرا سا ہٹنا پڑا۔مقطع میں لفظ ” دھل گئیں، چاہیے۔غلطی سے ڈھل گئیں“ لکھا گیا ہے۔الفضل میں شائع ہونے والے آپ کے کلام نے میرے لیے یادوں کے دریچے کھول دیے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے قلب و ذہن کو جلا بخشے اور لازوال رحمتوں سے نوازے۔سب عزیزوں کو میر اسلام دیں۔