اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 308 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 308

308 سیلاب کو شکوہ کہ مرا ذوق ہے پایاب کو شکایت کہ کنارہ نہیں ملتا دیکھو تو نظر آتے ہیں یہ لوگ تہی دست سوچو تو سر دار انھیں کیا نہیں ملتا یہ آگ کا دریا تھا کہ سنگلاخ زمیں تھی مضطر کا کہیں نقش کف پا نہیں ملتا