اشکوں کے چراغ — Page 294
294 تو چاہے تو آپ چھپا لے ستاری کی چادر میں میری فردِ عمل کا، میرا اور میرے حالات کا نام خالی خیمے آج بھی کوفے والوں سے یہ کہتے ہیں ہمت ہے تو واپس کر دو اب بھی نہر فرات کا نام کیا مضطر اور کیا اس کی اوقات کہ تیری محفل میں لے تو کس برتے پر لے اشکوں کی اس سوغات کا نام