اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 295 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 295

295 راتوں کو اُٹھ کے آنکھ کا آب حیات پی ان خشک سالیوں میں سر پل صراط پی زہر غم حیات بھی پینے کی چیز ہے اس کو بھی آزما ، اسے بھی آج رات پی پي تحفہ ملی ہے تجھے شہریار سے اور اس کو بر سر نہر فرات پی