اشکوں کے چراغ — Page 293
293 روح کی لذت بن کر برسا مولا! تیری ذات کا نام بھول گئے ہم سارے موسم، یاد رہا برسات کا نام ایک صحیفہ جس کو تو نے صبح ازل تصنیف کیا یعنی اسم محمد جس کا اسم ابد آیات کا نام ہم نادانوں، بے سمجھوں کو اس استاد کامل نے اپنی ذات پر لکھ کے سکھایا تیری ذات صفات کا نام مسکینوں پر تو ہی نورِ مجسم بن کر اُترا ہم تیرے ذکر کا نام محمد، قرآں تیری بات کا نام یک صحیفہ واپس لایا کتنے اور صحیفوں کو یعنی پھر مذکور ہوا انجیل کا اور تورات کا نام کعبہ جسم و جان ہے اب بھی تیرے قبضہ قدرت میں شرمندہ، سرافگندہ ہے اب بھی لات منات کا نام شہر ہجر میں اب بھی تیرے نام کا سکہ جاری ہے صدیوں پر بھاری ہے اب بھی قربت کے لمحات کا نام