اشکوں کے چراغ — Page xxxiv
۳۱ آپ نے باندھا ہے۔اسی نظم کے حسب ذیل شعر بھی ماشاء اللہ بہت عمدہ ہیں اور انھیں پڑھ کر بہت محظو ظ ہو ا ہوں۔وہ راہ چلتوں سے قول و قرار کر لیتے وفا کا عہد تو ان سے سنوار کر لیتے (اللہ اکبر) یہ قافلے جو کھڑے ہیں انا کی سرحد پر کسی بہانے سے سرحد کو پار کر لیتے نظر نہ آتے بگولے کبھی سرِ صحرا ہوا کے رخ کو اگر اختیار کرلیتے اللہ آپ کو صحت و عافیت والی فعّال اور بامراد لمبی عمر عطا فرمائے اور ہمیشہ اس کے پیار کی نظریں آپ پر پڑتی رہیں۔خدا حافظ و ناصر ہو۔لندن/1993/ہش 5۔2۔1372 ☆☆☆ الفضل کے 19 دسمبر 1992 ء اور 24 جنوری 1993ء کے شمارہ میں آپ کی جو نظمیں شائع ہوئی ہیں ان میں بعض تو بہت ہی چوٹی کے اشعار ہیں۔ویسے تو آپ کا سارا کلام ہی ایک امتیازی شان لیے ہوتا ہے اور ہمیشہ دل پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے لیکن ان شعروں کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔پر اثر ، دل نشیں اور روح پر وجد کی سی کیفیت پیدا کرنے والے۔ماشاء اللہ۔چشم بد دور۔کیا خوب فرمایا ہے۔عہد کا کرب مکمل نہیں ہونے پاتا یہ دھواں وہ ہے جو کا جل نہیں ہونے پاتا تری نظر کا اگر اعتبار کر لیتے بھی بہت خوب ہے۔بڑی مشکل بحر میں آپ نے