اشکوں کے چراغ — Page xxxv
۳۲ حیرت انگیز مضمون باندھا ہے۔اسی طرح ”وفا کا عہد تو ان سے سنوار کر لیتے “ والا بھی خوب مصرع ہے اور اس شعر میں تو آپ نے کمال ہی کر دیا ہے۔نظر نہ آتے بگولے کبھی سر صحرا ہوا کے رخ کو اگر اختیار کر لیتے ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ مضمون ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ساری نظم ہی بڑی بلند پایہ ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اللہ آپ کی ذہنی وقلبی صلاحیتوں کو مزید مستقل فرمائے۔خدا ☆☆☆ حافظ و ناصر ہو۔24۔4۔91 آپ کا دل تو درد میں ڈوبا ہوا ہمیشہ سے تھا ہی اب جسم بھی دردوں سے کراہنے لگا۔حیراں ہوں دل سنبھالوں کہ تھپکوں بدن کو میں صلیب عشق پر چڑھے ہوئے آپ کو عمر گزرگئی، نہ پھول برسے نہ گڑھے پڑے۔لیکن انسانوں کے پھول برسانے سے بنتا بھی کیا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ آپ پر اپنی رحمت کے پھول برسائے ، اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی۔ایک غم تو نہیں جو آپ سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔عزیزوں نے تو اپنی اپنی صلیب اٹھارکھی ہے۔آپ نے سب عزیزوں کی صلیبیں اٹھائی ہوئی ہیں۔پھول بھی تو اتنے ہی برسنے چاہئیں۔آپ کا کلام دن بدن زیادہ بلند اور زیادہ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔دل کے بخارات رفعتوں سے گہرے پانیوں پر پانی برساتے ہیں۔سطحی نظر سے دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ گہرے پانی پر سکون ہوتے ہیں۔کبھی اتر کر دیکھیں تو دیکھیں کہ طوفان نے آفت مچا رکھی ہے۔اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرے اور سمندر دل کو گہری سکینت سے بھر دے جو