اشکوں کے چراغ — Page xxxiii
۳۰ لندن/1993/ہش 7۔5۔1372 آپ کا سارا کلام ہی ماشاء اللہ ایک خاص اپنا سا انداز رکھتا ہے اور جس میں امتیازی رنگ پایا جاتا ہے لیکن آپ کے کلام میں بھی پھر بعض شعر بعض شعروں پر سبقت لے جاتے ہیں۔2 فروری کے الفضل میں شائع ہونے والی نظم کے حسب ذیل چار شعر تو مجھے بہت ہی پسند آئے ہیں۔ماشاء اللہ۔اللہ آپ کے کلام کا حسن اور بھی بڑھائے اور اپنی جناب سے نور عطا کرے۔آپ کو آئینوں کا بہت شوق ہے۔میری آنکھوں کے آئینے میں ذرا اپنے کلام کا چہرہ دیکھیں۔گلشن کا نہ تھا قصور اس میں موسم ہی نہیں بدل رہا تھا اس شور زمیں میں پیٹر تم کا جیسا بھی تھا پھول پھل رہا تھا جنت کا شجر تھا اور اس کے سائے میں گناہ پل رہا تھا رونا تو وہ چاہتا تھا لیکن آنسو ہی نہیں نکل رہا تھا 24 جنوری کے الفضل میں چھپنے والی نظم کا یہ پہلا شعر بھی بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے۔تری نظر کا اگر اعتبار کر لیتے واہ واہ سبحان الله نظر کی بھیک بھی تجھ سے پکار کر لیتے میرے علم میں کسی نے نظر پر اعتبار کے مضمون کو اس طرح نہیں باندھا جس طرح