اشکوں کے چراغ — Page 244
244 حد فاصل کو پار کون کرے ہم ادھر اور تم ادھر آباد سارا ہنگامہ تیرے فیض سے ہے تو رہے شاد ، نامه بر! آباد ہے کون مضطر ادھر سے گزرا۔گئی ساری رہ گزر آباد ہو
by Other Authors
244 حد فاصل کو پار کون کرے ہم ادھر اور تم ادھر آباد سارا ہنگامہ تیرے فیض سے ہے تو رہے شاد ، نامه بر! آباد ہے کون مضطر ادھر سے گزرا۔گئی ساری رہ گزر آباد ہو