اشکوں کے چراغ — Page 245
245 حیرت سے ہے خود کو تک رہا کیا اپنا بھی نہیں تجھے پتا کیا کیا جانیے مجھ کو ہو گیا کیا کہنا تھا کچھ اور کہہ دیا کیا جل رہے ہیں گھر گھر ہے یہ آج رتجگا کیا تھا کو زندانی زلف و چشم و رخسار کوئی بھی نہیں مرے سوا کیا سے سوال کرنے والے! ہے تو پکارتا کیا قاتل! تُو رہے سدا سلامت ہم کیا ہیں، ہمارا خوں بہا کیا تیرے بغیر کون اپنا تگو ہی نہ رہا تو پھر رہا کیا بھولے سے کیا ہے یاد کس نے سینے میں یہ درد سا اٹھا کیا سائے سے جھگڑ رہا ہے ناداں مضطر کو نہ جانے ہو گیا کیا