اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 243 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 243

243 آہٹوں سے ہے سارا گھر آباد اس خرابے کے ہیں کھنڈر آباد ایک پل بھی ہمیں سکوں نہ ملا لوگ رہتے ہیں عمر بھر آباد کون محو خرام ہے دل میں خرابہ ہے کس قدر آباد گھورتی ہیں ہزا رہا آنکھیں کہیں چہرے، کہیں بھنور آباد منتظر ہیں روش روش یادیں ٹہنی ٹہنی، شجر شجر آباد شدت غم سے داغ داغ ہے دل ایک گھر میں ہیں لاکھ گھر آباد کوئی اپنا رہے بے گانہ دل میں ہو جاؤ تم اگر آباد