اشکوں کے چراغ — Page 221
221 گل یہ کرتا ہوا فریاد آیا کوئی لکھیں ہے نہ یاد آیا کھنچ سکی پھر بھی نہ تیری تصویر کبھی مانی، کبھی بہزاد آیا اب نہ تیشے کی غلامی ہو گی نالہ کرتا ہوا فرہاد آیا پھر سر شام ستارے ٹوٹے پھر کوئی صاحب ایجاد آیا پھر سر شاخ پکاری بلبل پھر وہی موسم فریاد آیا ہم نے اک عمر گنوا کر دیکھی ہم سا کب خانماں برباد آیا سینکڑوں لوگ نظر سے گزرے کوئی ہم سا نہ ہمیں یاد آیا کوئی مضطر سا نہ ہو گا ناداں شاد ہو کر بھی جو ناشاد آیا