اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 220 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 220

220 زہے نصیب کہ اب خیمہ زن ہے پلکوں پر وہ ایک اشک جو ماں کی دعاؤں جیسا ہے جھگڑ رہا ہے صداؤں سے گھر کا سناٹا یہ بے صدا ہے پہ لاکھوں صداؤں جیسا ہے کیا ہے خار نے بھی احتجاج گلشن سے یہ احتجاج مگر التجاؤں جیسا ہے اگر بُرے ہو تو گھبرا رہے ہو کیوں مضطر! سلوک اس کا بُروں سے بھی ماؤں جیسا ہے