اشکوں کے چراغ — Page 222
222 خود صنم اٹھ کے چلے آئے صنم خانے سے کھوئے کھوئے سے، پریشان سے، بیگانے سے چاند نکلے گا ابھی بن میں اُجالا ہو گا میں گھبرا کے نکل جائے گا ویرانے سے اجنبی چہروں کے سیلاب مسلسل میں کہیں اور بھی لوگ ہیں کچھ جانے سے، پہچانے سے کوئی مقصد نہ کوئی زیست کا حاصل مضطر! دشت در دشت پڑے پھرتے ہیں دیوانے سے (ابتدائی)