اشکوں کے چراغ — Page 141
141 نہ میں اس سے، نہ وہ مجھ سے ملا ہے مگر دل ہے کہ اس کو جانتا ہے کیسی صبح کا چرچا ہوا ہے اندھیرے میں نظر آنے لگا ہے میں اپنے سامنے ہوں بھی ، نہیں بھی نظاره آنه در آئنہ ہے یونہی بُھولے سے آ جاؤ کسی دن کہ اس گھر کا تو دروازہ کھلا ہے کوئی آہٹ تو آئی ہے قفس میں کہیں اُمید کا پردہ ہلا ہے لرز اُٹھا ہے آدھی رات کا دل اندھیرے میں کوئی آنسو گرا ہے خدا رکھتے سلامت تجھ کو قاتل! کہ تو اپنا پرانا آشنا ہے