اشکوں کے چراغ — Page 142
142 اندھیرا صبح کو جھٹلا رہا تھا اسے بھی اب یقیں آنے لگا ہے ہمہ تن گوش ہے ساری خدائی ہے پس پردہ کوئی تو بولتا کھڑا ہوں دم بخود ان کی گلی میں بڑی مدت کے بعد آنا ہوا ہے
by Other Authors
142 اندھیرا صبح کو جھٹلا رہا تھا اسے بھی اب یقیں آنے لگا ہے ہمہ تن گوش ہے ساری خدائی ہے پس پردہ کوئی تو بولتا کھڑا ہوں دم بخود ان کی گلی میں بڑی مدت کے بعد آنا ہوا ہے