اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 140 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 140

140 گر وہ نہیں تو اس سے کئی اور بھی تو ہیں کالک جبینِ شہر یہ کوئی تو مل گیا کچھ دشت نینوائے ہوس بھی تھا ناشناس کچھ تیر بھی شہادت عظمی کا چل گیا پھر یوں ہوا کہ دفعہ بدلا ہوا کا رُخ جس حادثے کا لوگوں کو خدشہ تھا، ٹل گیا صوت و صدا کا سلسلہ کچھ تو ہوا بحال صد شکر ہے کہ روح کا پتھر پگھل گیا آؤ نا ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی“ موسم بھی سازگار ہے، سورج بھی ڈھل گیا مضطر! تم آدمی ہو تو ہے وہ بھی آدمی دیکھو گے ایک دن کہ وہ گر کر سنبھل گیا